بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
عورت پر خاوند کا حق (احادیث کی روشنی میں)
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی عورت کیلئے جائز نہیں ہے کہ وہ خاوند کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ رکھے اور نہ یہ جائز ہے کہ اسکی اجازت کے بغیر کسی کو اس کے گھر میں آنے کی اجازت دے“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
-
”حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا:۔ تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور تم سب سے اس کی اپنی رعیت کے بارے میں باز پرس ہوگی۔ امیر (اپنی رعایا کا) ذمہ دار ہے آدمی اپنے اہل خانہ کا ذمہ دار ہے۔ عورت اپنے خاوند کے گھر اور اسکی اولاد کی ذمہ دار ہے۔ پس (اسطرح) تم سب ذمہ دار ہو اور تم سب سے اس کی اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا “۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
یہ حدیث اس لحاظ سے نہایت اہمیت کی حامل ہے کہ اس میں معاشرے کہ ہر فرد کو چاہے وہ حکمران ہو یا عام آدمی، حتی کہ گھر کی چار دیواری کے اندر رہنے والی عورت کو بھی، اپنے اپنے دائرے میں اپنے فرائض ادا کرنے، اصلاح کرنے کا اور عدل و انصاف کے قیام کا ذمہ دار اور اس میں کوتاہی کرنے پر باز پرس کا حق قرار دیا گیا ہے۔
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا:۔ اگر میں کسی کو کسی کیلئے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں یقیناً عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے“۔ (جامع ترمذی)
اس سے اس امر کی بھی وضاحت ہوتی ہے کہ عورت کیلئے خاوند کی عزت و توقیر کتنی ضروری ہے۔
-
”حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔ جس عورت کا انتقال اس حال میں ہو کہ اس کا خاوند اس سے خوش تھا وہ جنت میں جائے گی“۔ (جامع ترمذی)
یہ ایسی عورت کیلئے ہے جو احکام و فرائض اسلام کی پابندی کیساتھ اپنے خاوند کو بھی خوش رکھنے کا اہتمام کرتی ہے اللہ تعالیٰ ان کی چھوٹی غلطیاں معاف فرما کر ان کو ابتداء میں ہی جنت میں بھیج دے گا۔ جہاں بد مزاج اور اکھڑ قسم کی عورتیں ہیں وہاں نیک مزاج اور خوش خصال خواتین بھی ہیں۔ یہ حدیث ایسی محمودالصفات خواتین کیلئے خوشخبری ہے۔
-
”حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا:۔ جو عورت دنیا میں اپنے خاوند کو ایذاء پہنچاتی ہے تو اسکی حورعین میں سے ہونے والی بیوی (جنت میں) کہتی ہے اللہ تجھے ہلاک کرے اسے ایذاء مت پہنچا کیونکہ یہ تو تیرے پاس (چند روزہ) مہمان ہے عنقریب یہ تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس آنے والا ہے“۔ (جامع ترمذی)
-
”حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا:۔ میں نے اپنے بعد مردوں کے حق میں عورتوں سے خطرناک فتنہ کوئی اور نہیں چھوڑا“۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
اس میں نبی کریم ﷺ نے عورت کے وجود کے حسن و جمال کو مردوں کیلئے تمام فتنوں میں سب سے بڑا اور سب سے زیادہ خطرناک فتنہ قرار دیا ہے۔ جس کا مشاہدہ بہ آسانی کیا جا سکتا ہے۔ بالعموم عورتوں کی ناجائز خواہشات کی تکمیل کیلئے مرد رشوت خوری اور ناجائز ذرائع آمدنی اختیار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اگر عورتیں نت نئے فیشوں کے مطابق لباس اور زیورات پہننے کا فضول شوق ترک کر کے سادگی کو اپنالیں تو مرد کو حرام ذرائع آمدنی اختیار کرنے کی زیادہ ضرورت پیش نہ آئے۔ اسی طرح شادی بیاہ کے موقعوں پر عورتیں ہی تمام بے ہودہ رسم و رواج کرنے پر مردوں کو آمادہ کرتی ہیں اور یوں حدود شریعت کی پامالی کیساتھ بے پناہ اخراجات کا باعث بنتی ہیں۔ جب کہ یہ آجکل ایک عذاب اور وبال جان بنی ہوئی ہیں۔ اسی طرح زندگی کے اور شعبوں میں بھی عورت کی حشر سامانیاں محتاج وضاحت نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان فتنوں سے محفوظ رکھے۔ (آمین)