بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
جہنم کا منظر (احادیث کی روشنی میں)
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :- کافر کا دانت یا اسکی کچلی (جہنم میں) احد پہاڑ کے برابر ہوگی اور اسکی کھال کی مسافت تین دن کے برابر ہوگی“۔ (صحیح مسلم)
-
”حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :- (جہنم میں) کافر کا جسم بہت بڑا بنا دیا جائے گا حتی کہ اُسکی ایک داڑھ احد پہاڑ سے بڑی ہوگی“۔ (سنن ابن ماجہ)
آپ نے اوپر حدیث پڑھی ہم ذرا اسکی تفصیل میں جاتے ہیں۔ ہماری کھال کی موٹائی یہاں (دنیا میں) ڈیڑھ، دو سینٹی میٹر ہے ٹوٹل اور جتنے انسان کے احساسات کے cells ہیں وہ کھال یا جلد کے اندر ہوتے ہیں اور اگر کھال جل جائے تو درد ختم۔ یہ کھال جہنم میں تین دن کے مسافت کے برابر موٹی ہو جائے گی بعض احادیث میں بیالیس ہاتھ ہے، یہ فرق جہنمیوں کے جرائم کے مطابق ہوگا۔ واللہ اعلم، بہرحال بیالیس ہاتھ تو کم سے کم ہے۔ ایک ہاتھ کم و بیش دو فٹ کا ہوتا ہے اور اسطرح یہ جلد کی موٹائی کم و بیش ۸۰ فٹ بنتی ہے۔ اس ۸۰ میں درد کے محسوس کرنے کا کیا System ہوگا؟
انسان کا دماغ ہی ہے جو سارے احساسات کے پیغام بھیجتا ہے۔ یہ دماغ اس وقت %6-5 کام کر رہا ہے عام لوگوں کا، جو پڑھے لکھے ہوتے ہیں اُن کا %8-7 کام کر رہا ہوتا ہے۔ جو کسی چیز کی زیادہ گہرائی میں جاتے ہیں اُن کا %10-9 لیکن اس سے زیادہ کسی کا نہیں۔ آئن سٹائن کے دماغ کو پرکھا گیا تھا اُس کے مرنے کے بعد تو %11.2 اُس کا دماغ استعمال ہوا تھا۔ تو احساسات کا سارا System دماغ میں ہے اور دماغ %6-5 کام کر رہا ہے باقی سارا سویا ہوا ہے۔ یہ ہمارا دماغ ہے کتنا ؟ کتنا لمبا چوڑا اللہ نے یہاں پھنسایا ہوا ہے۔ اگر دماغ اور اُس کی ساری چیزوں کو نکال لیا جائے اور دماغی ریشوں کا ایک تار بنایا جائے اور اس کو زمین سے اوڑھا جائے آسمان کی طرف تو چاند ہم سے دو لاکھ چالیس ہزار میل کے فاصلے پر ہے۔ صرف ایک آدمی کا دماغ اُسکی تار بنائی تو یہ دو لاکھ چالیس ہزار میل اُوپر جائے گا پھر واپس زمین تک آئے گا پھر اُس دماغ کی رسی کو واپس لاکر سروں کو آپس میں گرہ دی جا سکتی ہے۔ کسی نیورو فزیشن سے پوچھا گیا تو اس نے کہا ممکن ہے اس سے بھی زیادہ ہو۔ تو ایک آدمی کے دماغ کے ریشے پانچ لاکھ میل پر پھیلے ہوئے ہیں۔ اس دماغ کی پانچ لاکھ میل کی رسی پر ہر pin-point پر ایک کمپیوٹر چھپا ہوا ہے۔ pin کتنی کی جگہ گھیرتی ہے؟ اُسکی نوک کتنی باریک ہوتی ہے۔ تو اندازہ لگائیں کتنے کھرب ہا کھرب کمپیوٹر دماغ میں فٹ ہیں۔ اللہ تعالیٰ یہ سارے آخرت میں کھول دے گا۔
جب قرآن کہتا ہے کہ آج، تیرے رب جیسا عذاب نہیں کوئی دے گا تو ہم اس پر غور کئے بغیر آگے گذر جاتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ قرآن ہم سے بار بار غور کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اب ہمارے جسم میں تھوڑا سا درد ہوتا ہے اور یہ %6-5 کام کرنے والا دماغ ہمیں تڑپا دیتا ہے۔ ہمارے دانت میں تکلیف ہوتی ہے۔ ہمارا دماغ یہ پیغام دیتا ہے کہ تیرے دانت میں درد ہے۔ درد کی ایک لہر اُٹھتی ہے اور بڑے بڑے پہلوان لوٹ پھوٹ ہو جاتے ہیں، تڑپ تڑپ کر کہاں جاتے ہیں۔ ایک چھوٹا سا عضو دانت اور اس میں اُٹھنے والا معمولی سا درد اُٹھا تھا جبکہ %95 دماغ ویسے ہی سویا ہوا تھا۔ جب جلد ۸۰ فٹ موٹی ہو جائے گی اور یہ معمولی دانت اُحد پہاڑ (تقریباً ۱۰ میل) کے برابر ہو جائے گا اور دماغ کے ۵ لاکھ میل کے فائبر پر ایک ایک کمپیوٹر بیدار ہو چکا ہو اور اس پر اللہ جہنم کی آگ پھینکیں گے تو ایسے شخص کے احساسات کہاں جائیں گے؟ پھر بھی ہم کیوں نہیں پانچ وقت باجماعت نماز کا اہتمام کرتے؟ ہم کیوں نہیں توبہ کرتے؟ شہوتوں سے ہاتھ کھینچتے؟ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نبی کریم ﷺ سے محبت اور اُنکے طریقوں کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق دے۔ آمین۔