حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل

اشاعت: 16-02-2026
شیئر کریں (صدقہ جاریہ):
hazrat ali ke fazail hadith ki roshni mein

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل (احادیث کی روشنی میں)

  • ”حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ غزوہ تبوک کیلئے تشریف لے گئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا نائب بنایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑے جا رہے ہیں؟ آنحضرت نے فرمایا، کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ میرے لئے تم ایسے ہو جیسے موسیٰ علیہ السلام کیلئے ہارون علیہ السلام تھے، لیکن فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)

  • ”حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی نے خیبر کی لڑائی کے دن فرمایا تھا کہ اسلامی جھنڈا میں ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دوں گا جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ فتح عنایت فرمائے گا۔ اب سب اس انتظار میں تھے کہ دیکھئے جھنڈا کسے ملتا ہے۔ جب صبح ہوئی تو سب سرکردہ لوگ اسی اُمید میں رہے کہ کاش انہی کو مل جائے لیکن آنحضرت نے دریافت فرمایا، علی کہاں ہیں؟ عرض کیا گیا وہ آنکھوں کے درد میں مبتلا ہیں۔ آخر آپ کے حکم سے انہیں بلایا گیا۔ آپ نے اپنا لعاب دہن مبارک ان کی آنکھوں میں لگا دیا، اور فوراً ہی وہ اچھے ہو گئے جیسے پہلے کوئی تکلیف ہی نہ رہی ہو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا ہم ان (یہودیوں) سے اس وقت تک جنگ کریں گے جب تک یہ ہمارے جیسے (مسلمان) نہ ہو جائیں۔ لیکن آنحضرت نے فرمایا، ابھی ٹھہرو پہلے ان کے میدان میں اتر کر تم انہیں اسلام کی دعوت دے لو۔ اور ان کیلئے جو چیزیں ضروری ہیں ان کی خبر کر دو (پھر اگر وہ نہ مانیں تو لڑنا) اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعہ ایک شخص کو بھی ہدایت مل جائے تو یہ تمہارے حق میں سرخ اُونٹوں سے بہت ہے“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)

  • ”حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے دیکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ گھر میں موجود نہیں۔ آپ نے دریافت کیا کہ تمہارے چچا کے بیٹے کہاں ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ میرے اور ان کے درمیان کچھ ناگواری پیش آگئی اور وہ مجھ سے خفا ہو کر کہیں چلے گئے ہیں، اور میرے یہاں قیلولہ بھی نہیں کیا۔ اسکے بعد رسول اللہ نے ایک شخص سے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ کو تلاش کرو کہ کہاں ہے۔ وہ آئے اور بتایا کہ مسجد میں سوئے ہوئے ہیں پھر نبی تشریف لائے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ لیٹے ہوئے تھے، چادر انکے پہلو سے گر گئی تھی اور جسم پر مٹی لگ گئی تھی، رسول اللہ جسم سے دھول جھاڑتے جاتے تھے اور فرما رہے تھے اٹھو ابوتراب اٹھو۔“ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)

  • ”حضرت عمران بن حُصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا، بلاشبہ علی رضی اللہ عنہ نسب کے لحاظ سے مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور وہ ہر مومن شخص کا دوست ہے“۔ (جامع ترمذی)

    • وضاحت :- اس قسم کے الفاظ آپ کی انتہائی محبت کو ظاہر کرتے ہیں، اسی قسم کے الفاظ آپ نے حبیب رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی فرمائے تھے، جب حبیب رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو آپ نے فرمایا، یہ شخص مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، یہ حدیث مسلم شریف میں ہے۔ نیز اسی قسم کے الفاظ آپ نے اشعری رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی فرمائے تھے کہ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں، یہ حدیث بھی صحیح مسلم میں ہے۔

  • ”حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی نے فرمایا، جس شخص کے ساتھ میں دوستی رکھتا ہوں، اس سے علی (رضی اللہ عنہ) بھی دوستی رکھتا ہے“۔ (جامع ترمذی ، مسند احمد)

Virtues of ‘Ali رضي الله عنه — In the Light of Hadith

It is narrated from Sa‘d ibn Abi Waqqas رضي الله عنه that when the Messenger of Allah departed for the expedition of Tabuk, he appointed ‘Ali رضي الله عنه as his deputy in Madinah. ‘Ali رضي الله عنه said: “O Messenger of Allah ! Are you leaving me behind among women and children?” The Messenger of Allah replied: “Are you not pleased that your position to me is like the position of Harun عليه السلام to Musa عليه السلام, except that there will be no Prophet after me?” (Sahih Bukhari, Sahih Muslim)

It is narrated from Sahl ibn Sa‘d al-Sa‘idi رضي الله عنه that on the day of the battle of Khaybar, the Prophet said: “Tomorrow I will give the banner to a man through whom Allah will grant victory.” The people spent the night wondering who would be given the banner. In the morning, everyone hoped it would be given to him, but the Messenger of Allah asked: “Where is ‘Ali?” It was said: He is suffering from pain in his eyes. He was called, and the Prophet applied his blessed saliva to his eyes, and he was cured instantly as if he had never suffered any pain.

‘Ali رضي الله عنه said: “We will fight them until they become like us (i.e., Muslims).” The Prophet said: “Proceed calmly until you reach their territory, then invite them to Islam and inform them of what is obligatory upon them. By Allah, if Allah guides even one person through you, it is better for you than red camels.” (Sahih Bukhari, Sahih Muslim)

It is narrated from Sahl ibn Sa‘d رضي الله عنه that the Messenger of Allah came to the house of Fatimah رضي الله عنها and found that ‘Ali رضي الله عنه was not present. He asked: “Where is your cousin?” She said: “There was some disagreement between us, and he became upset with me and left; he did not rest here.” The Messenger of Allah asked someone to find him. He was informed that ‘Ali رضي الله عنه was sleeping in the Masjid. The Prophet came to him while he was lying down, and his cloak had fallen from his side and dust had gathered on his body. The Messenger of Allah began wiping the dust from him and said: “Get up, Abu Turab, get up.” (Sahih Bukhari, Sahih Muslim)

It is narrated from ‘Imran ibn Husayn رضي الله عنه that the Messenger of Allah said: “Indeed, ‘Ali رضي الله عنه is from me and I am from him, and he is the friend (wali) of every believer.” (Jami‘ al-Tirmidhi)

Explanation: Such words demonstrate the profound love of the Prophet for ‘Ali رضي الله عنه. Similar expressions were also used by the Prophet regarding other Companions. When Habib رضي الله عنه was martyred, the Prophet said: “He is from me and I am from him.” This narration is reported in Sahih Muslim. Likewise, similar words were said regarding al-Ash‘ari رضي الله عنه: “He is from me and I am from him,” and this narration is also found in Sahih Muslim.

It is narrated from Zayd ibn Arqam رضي الله عنه that the Prophet said: “Whoever holds me as his friend, ‘Ali رضي الله عنه is also his friend.” (Jami‘ al-Tirmidhi, Musnad Ahmad)